18 جولائی 2026 - 18:34
حزب اللہ: لبنان نہ کبھی امریکہ کا زیرِ اثر علاقہ بنے گا اور نہ صہیونی ریاست کی بستی

لبنان میں مجوزہ "فریم ورک معاہدے" اور صہیونی ریاست کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی مخالفت میں شدت آ گئی ہے۔ حزب اللہ کے رکنِ پارلیمان حسن عزالدین نے کہا ہے کہ لبنان نہ امریکہ کا زیرِ اثر علاقہ بنے گا اور نہ صہیونی ریاست کی بستی، جبکہ مزاحمت ملک کی خودمختاری، وقار اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا مستقل راستہ رہے گی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کی پارلیمان میں حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک "وفاداری بہ مزاحمت" کے رکن حسن عزالدین نے مجوزہ "فریم ورک معاہدے" پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کا مستقبل نہ امریکہ کی سرپرستی میں ہوگا اور نہ اسے صہیونی ریاست کی ایک بستی بننے دیا جائے گا۔

یہ بیان جنوبی لبنان کے شہر صور میں حزب اللہ کے زیر اہتمام "ہم مزاحمت کریں گے، سمجھوتہ نہیں کریں گے" کے عنوان سے منعقدہ احتجاجی اجتماع سے خطاب کے دوران دیا گیا، جس میں ارکانِ پارلیمان، سیاسی و مذہبی شخصیات، شہداء کے اہل خانہ اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

حسن عزالدین نے کہا کہ مزاحمت لبنانی عوام کی شناخت اور آزاد اقوام کی فطرت کا حصہ ہے۔ ان کے بقول، لبنان کا معاشرہ مکتبِ کربلا سے وابستہ ہے، جو ظلم کے خلاف قیام، مظلوم کی حمایت اور وطن کے دفاع کا درس دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مزاحمت نے گزشتہ برسوں میں جنوبی لبنان کو آزادی دلائی، قومی خودمختاری، عوام، قدرتی وسائل اور ملکی دولت کا تحفظ کیا اور خطے میں لبنان کے مقام کو مضبوط بنایا۔

حسن عزالدین نے لبنانی حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ براہِ راست مذاکرات اور بلا معاوضہ رعایتیں دے کر حکمران خود کو دشمن اور اس کے حامیوں کے مطالبات کے سامنے بے بس کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل لبنان کی خودمختاری اور قومی مفادات کے خلاف ایک سازش ہے اور اس کا نتیجہ حکومت کی سیاسی خودکشی کی صورت میں نکلے گا۔

انہوں نے کہا کہ مجوزہ "فریم ورک معاہدہ" صہیونی ریاست کے جرائم کو نظر انداز کرتا ہے اور مکمل انخلا کے بجائے صرف افواج کی ازسرِنو تعیناتی کی بات کرتا ہے، جس سے قبضہ برقرار رکھنے کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

حسن عزالدین کے مطابق صہیونی ریاست نے جنوبی لبنان سے مکمل انخلا کو حزب اللہ کے ہتھیار ڈالنے سے مشروط کیا ہے، حالانکہ یہی مقصد وہ ماضی کی جنگوں میں عسکری طاقت کے ذریعے حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ لبنان کے عوام سے مزاحمت کا اسلحہ چھیننے کا کسی کو حق حاصل نہیں، اور حکومت اب تک حقیقی جنگ بندی بھی یقینی نہیں بنا سکی، اس کے باوجود مذاکرات کو سب سے کم خرچ راستہ قرار دے رہی ہے، جبکہ صہیونی حملے اور جارحیت مسلسل جاری ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن اپنی تزویراتی ناکامی سے نکلنے کے لیے لبنان میں داخلی انتشار پیدا کرنا چاہتا ہے، تاہم حزب اللہ ایسے کسی منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha